​​Freedom                             Democracy                        Equality

Nasir Aziz Khan, Central Spokesperson UKPNP issued a statement and said that 5th February solidarity day with Jammu and Kashmir is a clumsy joke with people of Jammu & Kashmir . There is no historical significance of this day in Jammu & Kashmir. It is a conspiracy to communalise our society and divide our motherland Jammu Kashmir on religious basis. Sardar Shaukat Ali Kashmiri Exiled Chairman of United Kashmir People's National Party(UKPNP) in a press statement communicated party workers to celebrate 16th March as national Day of State of Jammu and Kashmir.Because 16th March 1846 is the foundation day of former Princely State of Jammu and Kashmir at this day treaty of Amratser was signed and State of Jammu and Kashmir was formed. لام آبااسلام آباد() متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے مرکزی نو منتخب عہدیداروں کے اعزاز میں پارٹی کے پنجاب زون کی جانب سے استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔استقبالیہ کا اہتمام راولاکوٹ ہورنہ میرہ سے تعلق رکھنے والے پی این پی کے سینئر رہنما عاطف خالد نے کیا۔تقریب کی صدارت پی این پی پنجاب زون کے صدر سردار راشد نے کی جبکہ نظامت کے فرائض پنجاب زون کی سیکرٹری کامریڈ سردار تانیہ خان نے سرانجام دیے۔ تقریب راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں ہوئی جس میں متحدہ کشمیر پی این پی کے نو منتخب مرکزی سینئر وائس چیئرمین سردار آفتاب حسین، وائس چیئرمین محمد بشیر راجہ، سیکرٹری امور نسواں کامریڈ نگہت گردیزی، مرکزی رہنماؤں سردار اعجاز کشمیری، شکیل عامر، سردار خضر ایڈووکیٹ، سردار وحید، بابر تاس اور دیگر نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ اس موقع پر معروف سیاسی کارکن کامریڈ آمنہ بٹ نے متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وائس چیئرمین سردار آفتاب حسین، میزبان عاطف خالد اور دیگر مقررین نے کہا کہ متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی ریاست جموں و کشمیر کی قومی آزادی اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے بر سر پیکار ہے اور ہماری جدوجہد مقاصد کے حصول تک جاری و ساری رہے گی۔ مقررین نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کو وہ تمام حقوق دیے جائیں جسکا اقوام متحدہ میں وعدہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں جب جانوروں کے بھی حقوق ہیں ہمارے اوپر 70 برس سے الحاق کی شق مسلط ہے۔ لینٹ افسران آج بھی ریاستی حکمرانوں کے آگے جوابدہ نہیں ہیں۔ ہماری اسمبلی کا ممبر آج بھی کوئی قانون سازی نہیں کر سکتا۔ بلدیاتی ادارے،طلبہ یونین آج بھی نہیں ہیں حالانکہ طلبہ یونین سے ہی لیڈر شپ پیدا ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں اور جمہوریت کتنی ہی بد تر ہوں بہتری انہی سے آئے گی۔ امریت اور مارشلا سے مراد بغیر کسی آئین قانون و ضابطے کے رہنا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سوال کرنے والے آج بھی کافر قرار دیے جاتے ہیں۔ زندہ معاشرے انسان کو سوال کرنے کا حق دیتے ہیں اور مردہ معاشرے میں صرف چپ رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اگرچہ ریاست ہمیشہ جبر کے نتیجے میں بنتی ہے لیکن قیام کے بعد ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو انسانوں کی فلاح کیلئے ہوں۔ رہنماوں نے کہا کہ مہاراجہ کے دور میں73فیصد رقبے پر جنگلات تھے آج صرف 10فیصد رہ گئے۔ محکمے اور ٹمبر مافیا نے ملکر ہمارا قدرتی حسن لوٹ لیا، ٹمبر مافیا حکمران بن گئے لیکن ہم خاموش ہیں اس لئے کہ بنیادی طور پر ہم بہادر لوگ نہیں ہیں۔ ہم اسرائیل،امریکہ اور انڈیا کیخلاف جلوس نکالتے ہیں لیکن جو ہمارے اوپر ظلم کرتے ہیں انکے خلاف نہیں بولتے۔ انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت کا یہ حال ہے کہ آپ اپنے دریاؤں کا پانی نہیں استعمال کر سکتے۔ دو دریاؤں کے رخ موڑ کر مظفرآباد میں ڈیم بنایا گیا۔ مظفر آباد کے 6 لاکھ انسانوں کی زندگیاں تباہی کے دھانے پہنچا دی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی ضرورت کیخلاف نہیں لیکن بتایا جائے کہ ڈیم کس کی ملکیت ہے اور اسکا ہماری ریاست کو کیا فائدہ ہے۔ ہمارا قدرتی ماحول تباہ،گھر بار اجڑ گئے لیکن ملے گا کیا یہ تو بتایا جائے۔ مقررین نے کہا کہ عالمی پابندی کے باوجود ہماری ریاست میں دہشتگرد دندناتے پھر رہے ہیں راولاکوٹ، باغ، مظفرآباد سمیت ریاست میں آپکو جلسہ کرنے کیلئے بھی ریاست سے اجازت کے بجائے ان دہشتگردوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم ایک طرف دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف انکی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہمیں تباہی کے دہانے لے جا رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر پارٹی رہنماوں کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی پی این پی 8 مارچ کو یوم خواتین اور 16 مارچ کو نیشنل ڈے بھرپور انداز سے منائے گی جسکے لئے آج ہی سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر پارٹی کے جلا وطن چیئرمین سردار شوکت علی کشمیری کی جہد مسلسل کو سرخ سلام پیش کیاگیا اور پی این پی کی سابق رہنما کامریڈ نائلہ خانین کو انکی لازوال جدوجہد پر سلام عقیدت پیش کیا گیا۔کیا گیا۔

​ United Kashmir People's National Party

  • Freedom 
  • Democracy
  • Equality 

"Man is free at the moment he wishes to be."

Voltaire



Our Way

"Freedom is the recognition of necessity."

Friedrich Engels

Our Menifesto

United Kashmir Peoples National Party was founded on 10th April 1985. During these years the Party faced many ups and downs. It seems that in coming years some new trials and tests are in store for us to reach the destination. Our Party is struggling for higher ideals like national liberation, democratic set up, exploitation free and prosperous society in the former state of Jammu and Kashmir. These ideals demand lot of sacrifices. As such we are not afraid of such ordeals. With all the ordeals Party is determined to step forward and it has successfully advanced and organized since its inception. 


To achieve the high ideals set forth practically, the Party has made intensive and close contacts with working class, poor peasants, women and students and people of all shades of opinion and social status. Party is working at different fronts for its ideals. 


The Party is continuously struggling to organize the people of Jammu and Kashmir for their national liberation. But to strengthen the roots among general public and revolutionary sections, the revolutionary movement of our mother land must flourish from its soil. 


In a neo-imperialist society, the concept of socio-political and economic emancipation is not an easy task. In all parts of the state of Jammu and Kashmir the people are living a life of utter poverty, unemployment and backwardness. They have no political and democratic rights. Particularly in Gilgit and Baltistan that are integral part of the state, the concept of election is still unknown. People there are still deprived of the right to vote. 


Occupant forces and their agents are still playing their foul play in these regions. The resource of the state are being exploited and utilized by the occupying forces. The traditional conservative parties of the state equally share this exploitation. These parties work against the national interest and for their own interest. They promote tribal sectarian and regional prejudices for their own political and economic gains and motives. They instigate and fire the sentiments of general public to keep them politically disintegrated and economically backward.